ممبئی آزاد میدان میں تین طلاق بل کے خلاف خواتین کی تاریخی ریلی

*ممبئی کے آزاد میدان میں تحفظ شریعت اور طلاق بل کے خلاف عظیم الشان تاریخی احتجاجی ریلی ممبئی،*
31 مارچ، پریس ریلیز
آج ممبئی کے آزاد میدان میں مسلم خواتین بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئیں اور مسلم عورتوں کے تعلق سے “مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج بل 2017″کے خلاف پُر زور احتجاج درج کروایا جو بل لو سبھا سے پاس ہوچکا ہے اور اب اس وقت راجیہ سبھا میں ہے۔ اس عظیم الشان ریلی کا انعقاد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز اور تحریک پربورڈکی ممبئی ویمن ونگ نے کیا تھا۔احتجاج کرنے والی خواتین اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لی ہوئی تھیں جس پر لکھاتھا “طلاق بل کو واپس لو”۔مسلم خواتین کا کہنا تھا کہ وہ لوگ اسلامی قانون میں با لکل محفوظ ہیں اور مسلم پرسنل لا اور شریعت پر انہیں فخر ہے۔ اُن لوگوں نے طلاق کو قابلِ تعزیر جرم قرار دینے کی حکومت کی کوششوں کی پُرزور مذمت کی اور کہا کہ یہ بل مکمل طور پر عورتوں اور بچوںکے حقوق کے خلاف ہے اس سےمسلم معاشرہ اورخاندان بُری طرح سے متا ء ثر ہونگے۔اس احتجاج ریلی سے محترمہ صا لحہ سہیل، کو آرڈینیٹر ویمن ونگ، محترمہ ذکیہ محمد فرید شیخ، کو آرڈینیٹر ویمن ونگ، محترمہ عشرت شہاب الدین شیخ، کو آرڈینیٹر ویمن ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،محترمہ شبانہ خان، پروفیسر اس۔این۔ڈی۔ٹی یونیورسیٹی۔ محترمہ عرشیہ شکیل، جماعت اسلامی ہند، محترمہ آئین رضا، اہل سنت والجماعت، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، ایکزیکیو ٹیو ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ، محترمہ سمیہ نعمانی، ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ،ایڈوکیٹ منورہ الوارے ، محترمہ فرحہ جعفری، شیعہ جماعت ، محترمہ سلمہ رضوی، مبلغہ اہل سنت والجماعت اور ڈاکٹر اسما ء زہرہ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنللا ء بورڈ ویمن ونگ نے خطاب کیا۔ڈاکٹر اسما ء زہرہ،صدر آلانڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ ویمن ونگ،نے اپنے خطاب میں بل کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج بل 2017”قانونی طور پر نُقص سے پُر ہے، یہ بل عورتوں کو قانونی اور سماجی پیچیدگیوں میں الجھا تا ہے اور اس بل میں زیادہ زور شوہروں کوجیل بھیج نے پر ہے نہ کہ عورتوں کی مدد کرنےپر ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ماہرینِ قانون اورحقوقِ نسواں کی تنظیموں نے اس بل کیکھل کر مخالفت کی ہےاور ہم مسلم عورتوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ کی تعداد میں گھروں سے نکل کر اس بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس موقع پر ہم کھلے لفظوں میں حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہ کرے۔پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی نے پُر ہجوم ریلی سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ “ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں آزادی ء مذہب بنیادی حقوق میں سے ہےجس کی ضمانت دستور ہند میں دی گئی ہے۔اس بل کو آمرانہ انداز سے قانون بنانے کی حکومت کی کوشش بد بختانہ ہے۔ یہ بل مکمل طور پر مسلم مخالف ہے اور مسلم عورتوں کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ایڈوکیٹ منورہ الوارے نے مراٹھی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمخواتین دل و جان سے شرعی قوانین کی حمایت میں ہیں اور وہ اچھی طر ح جانتی ہیں کہ اُن کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے۔ اس لئے مسلم عورتوں کو کسی بھی حال میں دھوکہ نہیں دیاجانا چاہئے۔جماعتِ اسلامی کی محترمہ عرشیہ شکیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔مسلمانوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس قانونِ شریعت کی شکل میں انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات کے لئےایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے اور مسلمان اس سے خوش بھی ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کی ممبر محترمہ سمیہ نعمانی نے اپنے پُر مغز خطاب میں یہ واضح کیا کہ عورتوں کو مسلم سماج میں بلند و بالا اورعزت کا مقام حاصل ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ زندگی کے ہر مقام اور ہر شعبے میں عورتوں کے ساتھ رحمدلی کا برتا ؤ کیا جائے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ عورتوں کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹیہر شکل میں احترام کا درجہ حاصل ہے۔اہل سنت والجماعت کی محترمہ آئین رضا نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اتحادِ ملت پر زور دیا اور بتلایا کہ یہ بل تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لئے قابلِ فکر اور پریشان کن ہے اسلئے اگر ہم متحدہ طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے اس پلیٹ فارمسے کوشش کر یں گے تو انشا ء اللہ یقینی طور پر مثبت نتائج آئینگے۔ویمن ونگ ممبئی کی کو آرڈینیٹر محترمہ عشرت شہاب الدین شیخ نے سامعین کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کی کارکردگی اور عزائم سے واقف کرایا جبکہ محترمہ ذکیہ محمد فرید شیخ ،کوآرڈینیٹر ویمن ونگ نے بورڈ کے سماجی اصلاح ،دار القضا اور ویمن ہیلپ لائن جیسے کا موں کو اُجا گر کیا۔اخیر میں اس ریلی کو کامیاب اور تاریخساز بنانے کے لئےآل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے ممبران نے رضا کاروں اور ٹیم لیڈروں کیاجتماعی کوششوں کو سراہا۔اس تاریخی اور پر ہجوم عظیم الشان ریلی کے اختتام پر مسلم پرسنل لابورڈ خواتین کی ذمہ داراننے اپنے مطالبوں پر مشتمل ایک میمورنڈم مہاراشٹرا کے گورنر صاحب کو جا کر پیش کیا۔اس موقع پر جوقرارداد پیش کیا گیا اس کا متن مندرجہ ذیل ہے.قرارداد:1۔حکومت کو مسلم خواتین بل 2017)طلاقِ ثلاثہ بل ( ضرور واپس لینا چاہئے۔2۔ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتی ہیں۔3۔مسلم خواتین یکساں سول کوڈ کو متعارف کرانے کی حکومت کی تمام اقدامات کو مسترد کرتی ہیں۔*.4۔ننانوے فیصد سے زائد مسلم خواتین مسلم پر سنل لا بورڈ کی حمایت کرتی ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog