جمعیۃ علماء بہار کے دسویں اجلاس کی صدا سے گونجی تین سو مساجد
*جمعیۃ علماء بہار کے دسویں اجلاس کی صدا سے گونجی تین سو مساجد*
آج جمعہ کی نماز سے قبل سیمانچل کے تمام اضلاع کی تقریباً تین سو جامع مساجدوں میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران اورجمعیۃ سے وابستہ اکابرعلماء کرام نے خطاب کیا ، جس میں انہوں نے ملک میں امن وامان ، قومی یکجہتی ، تحفظ شریعت اور جمعیۃ علماء بہار کے دسویں اجلاس عام کی موجودہ وقت اور حالات میں اہمیت اور ضرورت سے لوگوں کو آگاہ کیا ، شہر کشن گنج کی اہم اور مرکزی مسجد ’’خانقاہ‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی مدظلہ العالی جو ان دنوں جمعیۃ علما بہار کے دسویں اجلاس عام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے سلسلے میں بہار کے دورہ پرہیں انہوں نے خانقاہ جامع مسجد کشن گنج میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : آج ملک ہندوستان میں جس طرح ظلم وستم کا بازار گرم کرکے نفرت کی دیوار کھڑی کی جارہی ہے اور مسلم اقلیتی طبقہ کو ہرجگہ ہراساں کیاجارہاہے، مذہبی بنیاد پر تفریق کی سیاست کو ہوادی جارہی ہے ، دنیا کے منظر نامے پر ایسا ہندوستان بنایا جارہاہے جہاں محبت کے بجائے نفرت کی بالادستی قائم ہوسکے، ہمارے کچھ اشتعال انگیز اور عاقبت نااندیش رہ نما بھی اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ان کی طرف سے بچھائے گئے دام تزویر میں پھنستے نظر آرہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو مسلم کے درمیان مکالمت، مصالحت اور مفاہمت کے بجائے منافرت اور عداوت جنم لے رہی ہے ،ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ نفرت ،تشدد اور فرقہ پرستی کی راہ پر چلنے سے ملک کی سالمیت پارہ پارہ ہوسکتی ہے ، دوستانہ اور برادرانہ فضاء میں ہی کوئی ملک ترقی کے ہمالیہ پر پہنچ سکتاہے ،ہم کشمیر سے کنیا کماری تک قومی یکجہتی اور بقائے باہم کی وہ خوش گوار فضاء قائم کرنا چاہئے ، 4؍اپریل کو سرزمین کشن گنج میں بمقام فدائے ملت نگر لہرا چوک کشن گنج جمعیۃ علماء بہاراپنا دسواں اجلاس عام اسی عنوان کے تحت منعقد کررہی ہے ، یہی مشن اور مقصد ہے تاکہ امن وشانتی کا قیام ہو،اور نفرت کاخاتمہ ہو۔انہوں نے فرمایا:جمعیۃ علماء ہندکاقیام1919ء میں عمل میں آیاتھااوراب جمعیۃ سوسال پوراکرنے جارہی ہے،جمعیۃ علماء ہند کی سوسالہ خدمات پرمشتمل صدسالہ،تاریخی اورعالمی اجتماع کاانعقاد2019ء میں شہردیوبندمیں ہونے جا رہا ہے، اس سے قبل جمعیۃ علماء ہندنے ملک بھرمیں 100؍اجتماعات کے انعقادکافیصلہ لیاہے۔جمعیۃ علماء بہارکادسواں اجلاس عام اس کاپہلا نمائندہ اجلاس ہے، جس میں جمعیۃ علماء ہند کی سوسالہ خدمات کو اجاگرکیاجائے گا،واضح رہے کہ ملک،جمہوریت اورسیکولرازم کی حفاظت ،قومی یکجہتی کے فروغ اورتعمیروطن کی فکرپیداکرنے،ملک میں بڑھتی فرقہ وارانہ تشددکے روک تھام اورامن وشانتی کی فضا پیدا کرنے، دستور ہندمیں دیئے گئے مذہبی حقوق وعائلی قوانین کے تحفظ،اوراس کی دشواریوں پرغوروفکرکرنے،مسلم پرسنل لاء کاتحفظ، اور طلاق ثلاثہ سے مسلمانوں کو بچنے کی تلقین کرنے،سماج کی اصلاح اورپاکیزہ معاشرہ کی تشکیل عمل میں لانے،دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی طرف مسلم نوجوانوں کوتوجہ دلانے اورجمعیۃ علماء ہندکی سوسالہ خدمات کواجاگرکرنے کیلئے ،جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مولانامحمدقاسم صاحب کی صدارت میں جمعیۃ علماء بہارکا دسواں اجلاس عام سرزمین کشن گنج میں منعقد ہورہاہے۔
آج کے اہم خطباء میں جمعیۃ علماء بہار جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ناظم صاحب ، مولانا ومفتی محمد جاوید اقبال صاحب قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء بہار ، قاری نوشاد عادل صاحب آر گنائزر جمعیۃ علما ء ہند ، مولانا محمد خالد انور صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء کشن گنج ، مولانا عبد الباسط صاحب ، مفتی محمد دانش انور صاحب قاسمی ، مولانا نوید صاحب قاسمی، مولانا فیض الرحمن صاحب ندوی ،مولانا محمد عاصم انور صاحب قاسمی، اور راقم احقر محمد مناظر نعمانی قاسمی وغیرہ علماء کرام شامل ہیں۔
واضح ہے کہ جمعیۃ علما بہار کے اس دسویں اجلاس عام میں ملک کے طول وعرض سے اکابر علماء کرام بالخصوص امیرالہندجناب مولاناقاری سید محمدعثمان صاحب منصورپوری صدرجمعیۃ علماء ہند،اور قائدجمعیۃ جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند ، کے علاوہ ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے مذہبی ومسلکی رہنماوں کی تشریف آوری ہوگی،جناب حاجی عبد الواحد صاحب انگارا گدی نشیں آستانہ عالیہ درگاہ خواجہ غریب نواز ؒ،اجمیر شریف، شری چدانند سرسوتی مہاراج ، ریشی کیش ہریدوار، اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی بھی شرکت یقینی ہے۔
اس خطاب میں جہاں تمام مقررین نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات سے لوگوں کو آگاہ کیا وہیں تمام فرزندان تو حید کو اس عظیم الشان اورتاریخی اجلاس عام میں شرکت دعوت بھی دی، جسے تمام سامعین نے نہ صرف سراہا بلکہ اس اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی ۔
آج جمعہ کی نماز سے قبل سیمانچل کے تمام اضلاع کی تقریباً تین سو جامع مساجدوں میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران اورجمعیۃ سے وابستہ اکابرعلماء کرام نے خطاب کیا ، جس میں انہوں نے ملک میں امن وامان ، قومی یکجہتی ، تحفظ شریعت اور جمعیۃ علماء بہار کے دسویں اجلاس عام کی موجودہ وقت اور حالات میں اہمیت اور ضرورت سے لوگوں کو آگاہ کیا ، شہر کشن گنج کی اہم اور مرکزی مسجد ’’خانقاہ‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی مدظلہ العالی جو ان دنوں جمعیۃ علما بہار کے دسویں اجلاس عام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے سلسلے میں بہار کے دورہ پرہیں انہوں نے خانقاہ جامع مسجد کشن گنج میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : آج ملک ہندوستان میں جس طرح ظلم وستم کا بازار گرم کرکے نفرت کی دیوار کھڑی کی جارہی ہے اور مسلم اقلیتی طبقہ کو ہرجگہ ہراساں کیاجارہاہے، مذہبی بنیاد پر تفریق کی سیاست کو ہوادی جارہی ہے ، دنیا کے منظر نامے پر ایسا ہندوستان بنایا جارہاہے جہاں محبت کے بجائے نفرت کی بالادستی قائم ہوسکے، ہمارے کچھ اشتعال انگیز اور عاقبت نااندیش رہ نما بھی اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ان کی طرف سے بچھائے گئے دام تزویر میں پھنستے نظر آرہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو مسلم کے درمیان مکالمت، مصالحت اور مفاہمت کے بجائے منافرت اور عداوت جنم لے رہی ہے ،ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ نفرت ،تشدد اور فرقہ پرستی کی راہ پر چلنے سے ملک کی سالمیت پارہ پارہ ہوسکتی ہے ، دوستانہ اور برادرانہ فضاء میں ہی کوئی ملک ترقی کے ہمالیہ پر پہنچ سکتاہے ،ہم کشمیر سے کنیا کماری تک قومی یکجہتی اور بقائے باہم کی وہ خوش گوار فضاء قائم کرنا چاہئے ، 4؍اپریل کو سرزمین کشن گنج میں بمقام فدائے ملت نگر لہرا چوک کشن گنج جمعیۃ علماء بہاراپنا دسواں اجلاس عام اسی عنوان کے تحت منعقد کررہی ہے ، یہی مشن اور مقصد ہے تاکہ امن وشانتی کا قیام ہو،اور نفرت کاخاتمہ ہو۔انہوں نے فرمایا:جمعیۃ علماء ہندکاقیام1919ء میں عمل میں آیاتھااوراب جمعیۃ سوسال پوراکرنے جارہی ہے،جمعیۃ علماء ہند کی سوسالہ خدمات پرمشتمل صدسالہ،تاریخی اورعالمی اجتماع کاانعقاد2019ء میں شہردیوبندمیں ہونے جا رہا ہے، اس سے قبل جمعیۃ علماء ہندنے ملک بھرمیں 100؍اجتماعات کے انعقادکافیصلہ لیاہے۔جمعیۃ علماء بہارکادسواں اجلاس عام اس کاپہلا نمائندہ اجلاس ہے، جس میں جمعیۃ علماء ہند کی سوسالہ خدمات کو اجاگرکیاجائے گا،واضح رہے کہ ملک،جمہوریت اورسیکولرازم کی حفاظت ،قومی یکجہتی کے فروغ اورتعمیروطن کی فکرپیداکرنے،ملک میں بڑھتی فرقہ وارانہ تشددکے روک تھام اورامن وشانتی کی فضا پیدا کرنے، دستور ہندمیں دیئے گئے مذہبی حقوق وعائلی قوانین کے تحفظ،اوراس کی دشواریوں پرغوروفکرکرنے،مسلم پرسنل لاء کاتحفظ، اور طلاق ثلاثہ سے مسلمانوں کو بچنے کی تلقین کرنے،سماج کی اصلاح اورپاکیزہ معاشرہ کی تشکیل عمل میں لانے،دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی طرف مسلم نوجوانوں کوتوجہ دلانے اورجمعیۃ علماء ہندکی سوسالہ خدمات کواجاگرکرنے کیلئے ،جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مولانامحمدقاسم صاحب کی صدارت میں جمعیۃ علماء بہارکا دسواں اجلاس عام سرزمین کشن گنج میں منعقد ہورہاہے۔
آج کے اہم خطباء میں جمعیۃ علماء بہار جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ناظم صاحب ، مولانا ومفتی محمد جاوید اقبال صاحب قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء بہار ، قاری نوشاد عادل صاحب آر گنائزر جمعیۃ علما ء ہند ، مولانا محمد خالد انور صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء کشن گنج ، مولانا عبد الباسط صاحب ، مفتی محمد دانش انور صاحب قاسمی ، مولانا نوید صاحب قاسمی، مولانا فیض الرحمن صاحب ندوی ،مولانا محمد عاصم انور صاحب قاسمی، اور راقم احقر محمد مناظر نعمانی قاسمی وغیرہ علماء کرام شامل ہیں۔
واضح ہے کہ جمعیۃ علما بہار کے اس دسویں اجلاس عام میں ملک کے طول وعرض سے اکابر علماء کرام بالخصوص امیرالہندجناب مولاناقاری سید محمدعثمان صاحب منصورپوری صدرجمعیۃ علماء ہند،اور قائدجمعیۃ جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند ، کے علاوہ ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے مذہبی ومسلکی رہنماوں کی تشریف آوری ہوگی،جناب حاجی عبد الواحد صاحب انگارا گدی نشیں آستانہ عالیہ درگاہ خواجہ غریب نواز ؒ،اجمیر شریف، شری چدانند سرسوتی مہاراج ، ریشی کیش ہریدوار، اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی بھی شرکت یقینی ہے۔
اس خطاب میں جہاں تمام مقررین نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات سے لوگوں کو آگاہ کیا وہیں تمام فرزندان تو حید کو اس عظیم الشان اورتاریخی اجلاس عام میں شرکت دعوت بھی دی، جسے تمام سامعین نے نہ صرف سراہا بلکہ اس اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی ۔
Comments
Post a Comment