حلالہ اور ہم
*#حلالہ_اور_ہم!*
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ نے " نکاح حلالہ" کے عنوان سے ایک سرکولر جاری کیا تھا، اب اس حوالے سے ہماری ملی جماعتوں کا دو متضاد موقف عوام میں آیا ہے،
جمعیۃ علماء ہند کے مولانا گلزار اعظمی نے خم ٹھونک کر اعلان کیا ہے کہ، نکاح حلالہ پر پابندی شریعت میں مداخلت ہے اور ہم اس کے خلاف آخری دم تک لڑینگے ۔
دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف الله رحمانی صاحب کی پریس ریلیز شائع ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ " نکاح حلالہ " کا اسلام میں سرے سے تصور ہی نہیں ہے ۔
ایکطرف جمعیۃ علماء ہند دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، عنوان ہے حساس ترین جس کو لیکر مسلم دوشیزائیں تک شرمندہ ہوتی ہیں، اسلامی تعلیمات کو " گھناؤنا " باور کرایا جاتاہے، ایسے حساس ایشو پر ملت کی دو متفقہ نمائندہ جماعتوں کے مؤقر افراد کی طرف سے میڈیا میں علیحدہ علیحدہ نقطۂ نظر پیش کردیاگیا ہے،
اب اگر میڈیا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اسلام اور مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرے تو ذمہ دار کون؟
عام مسلم ذہنوں میں تشکیک اور نوجوانوں میں اضطراب پھیلے تو ذمہ دار کون؟
جمعیۃ اور بورڈ میں سے کس کو اختیار کیا جائے؟
نفس مدعا کے لحاظ سے تو ہمیں مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی صاحب کا موقف سمجھ میں آتا ہے جو کافی شافی اور مسکت ہے، اور حلالہ کی بھترین تعبیر جو ٹیکنیکلی ذہنوں کو ٹچ کرتی ہے وہ برادر یاسر ندیم الواجدی صاحب کی یہ تعبیر ہے " حلالہ رزلٹ کو کہتےہیں نا کہ منظم اسی نیت سے کیے جانے والے عمل کو " حلالہ کی اس بھتر ٹیکنیکل توجیہ کوئی اور نظر نہیں آتی،
بہر صورت ملی تنظیموں کے اس غیردانشمندانہ اقدام نے پھر سے جگ ہنسائی اور رسوا کن صورتحال پیدا کردی ہے،
جمعیۃ علماء ہند اور بورڈ کے متضاد موقف سے یہ پتہ چلتا ہیکہ ملک کی مؤقر قیادتوں اور نمائندہ جماعتوں تک میں باہمی تعاون اور جذبہء باہمی کی کمی ہے، وگرنہ کم از کم ایسے مسئلے میں آپسی مشاورت و مذاکرات کے بغیر میڈیا میں نہیں جاتے ۔
ملی تنظیموں کو چاہیے کہ اس طرح کی بحرانی صورتحال پیدا نہ کریں اور کم از کم حلالہ جیسے مسئلے پر متحدہ متفقہ موقف جاری کریں، کہ، حلالہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو شریعت اسلامی کو مکروہ کرتاہے، نوجوان لڑکیوں کو بدظن کرتاہے، قبل اس کے کہ یہ متضاد پالیسی کوئی نیا طوفان کھڑا کرے اس پر ملی قیادتوں کا اپنا اسٹینڈ کلئیر کرنا چاہیے
خیر، ہم زیادہ کچھ کہہ دیں تو شکایت ہوگی، علماء کرام ہی ذرا غور فرمائیں کہ کب تک تاویل در تاویل کی پالیسی اختیار کرکے قوم و ملت کو کٹہرے میں رکھا جائے؟
فالی الله المشتکی:
*سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
Comments
Post a Comment