شریعت ہماری مجبوری نہیں، ہمارا اعزاز ہے

شریعت ہماری مجبوری نہیں ہمارا اعزاز، مودی سرکار طلاق ثلاثہ بل واپس لے
 تحفظ شریعت کے لیے خواتین کا عظیم الشان جلوس !
ممبئی اور مضافات سے بلالحاظ مسلک خواتین کا سیلاب اُمڈ پڑا، آزاد میدان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خواتین ونگ کی صدرڈاکٹر اسما زہرا، سمیہ نعمانی، مونسی بشری وعشرت شیخ کا خطاب، پولس کا بہترین انتظام، مسلم تنظیموں سمیت بوہرا وشیعہ کی طرف سے زبردست تعاون اور رہنمائی، رضا اکیڈمی ، سنی جمعیۃ علماء، جمعیۃ علماءمہاراشٹر کی مکمل تائید
ممبئی۔۳۱؍مارچ: (نازش ہماقاسمی) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ’’تحفظ شریعت ریلی‘‘ میں آج لاکھوں کی تعداد میں خواتین اسلام آزاد میدان میں ’’شریعت ہماری جان!! جان سے پیاری!! ‘‘نام کی پٹی اپنے ماتھے پر لگائے ہوئے چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں کا سفر کرکے شریک ہوئیں۔ وہ اپنے ہاتھوں میں ’’چند عورتوں کو مہرہ بناکر دنیا کو دھوکہ نہ دو‘‘، ’’طلاق بل از اگینسٹ آف چلڈرن ٹیک بیک طلاق بل‘‘، ’’تین طلاق شریعت میں مداخلت‘‘، شریعت ہماری مجبوری نہیں ہمارا اعزاز ہے‘‘، ’’ہم شریعت اسلامی پر خوش ہیں‘‘، ’’ہم مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہیں‘‘، حکومت ہماری شریعت میں مداخلت نہ کرے‘‘ وغیرہ پلے کارڈ لیے ہوئی تھیں۔ ریلی میں ممبرا، وسئی، ویرار، چیتا کیمپ، گوونڈی، اندھیری، ملاڈ، سائن، کرلا،سے ہزاروں کی تعداد میں خواتین اسلام شریک ہوئیں۔ جنوبی ممبئی میں جگہ جگہ خواتین کو آزاد میدان میں خیروخوبی سے پہنچانے کے لیے والنٹیئرس موجود تھے۔ دو بجے کے قریب آزاد میدان میں بورڈ کی یہ ریلی شروع ہوئی ۔اس ریلی میں مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کی خواتین شریک تھیں۔ اس خاموش احتجاجی ریلی سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر اسما زہرا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کی تائید میں آپ کا اس دھوپ میں جمع ہونا تاریخ میں لکھا جائے گا اور اللہ کے سامنے میدان حشر میں جب ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب شریعت کو مٹانے کی کوشش ہورہی تھی تم کیا کررہی تھی تو ہم اتنا تو کہہ سکتی ہیں کہ اللہ پاک ہم جس جمہوری ملک میں تھے وہاں جمہوری طریقے سے خاموش مظاہرہ کرکے لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر اپنا ایمانی فریضہ انجام دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں سب سے عظیم نعمت شریعت اسلامی دی ہے، اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا اور مسلمان بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے تمام انعامات چھین لیے جائیں، ہمارے مال کا نقصان ہوجائے، لیکن دین ہمارے لیے آکسیجن کی طرح ہے اگر ہم سے ہمارا دین چھین لیا جائے گا تو ہم دنیا وآخرت میں خسارے میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کی شرح مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک ہے اس کے آئین میں ہر شہری کو ا پنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ساٹھ سالوں سے مسلمان اپنے اس حق کے مطابق مسلم پرسنل لا کے مطابق اپنی زندگی گزارتے آئے ہیں لیکن یہ حکومت اس حق کو چھینناچاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے طلاق کے مدعے کو بہت زیادہ اچھالا گیا یہ تاثر پیش کرنے کے لیے کہ طلاق مسلمان عورت کے بہت بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ امپریشن دیا گیا کہ ’بے چاری مسلمان عورت‘ اور مردوں کے معاملے میں ایسے پیش کیا گیا جیسے ہر مرد تین طلاق دیتا ہے اور چار چار شادیاں کرتا ہے۔ ایک غلط تصویر پیش کی گئی جس کی وجہ سے تمام لوگ یہ سمجھنے لگے کہ طلاق ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طلاق نہ مسلم قوم کا مسئلہ ہے نہ ہمارے ملک ہندوستان کا مسئلہ طلاق کا فیصد مسلمانوں میں سب سے کم ہے اور ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاق جسے چیلنج کرنے کے لیے کچھ مسلم بہنیں سپریم کورٹ گئی تھیں مسلم پرسنل لا بورڈ نے وہاں کامیاب پیروی کی اور سپریم کورٹ نے بھی ہمارا جو مسلم پرسنل لا کا دستوری حق ہے اسے تسلیم کیااور ججوں نے کہا ایک وقت میں تین طلاق کے علاوہ کوئی اور طلاق کی نہ بات ہوگی نہ بحث ہوگی ۔ انہوں نے طلاق ثلاثہ بل کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج بل 2017" قانونی طور پر نُقص سے پُر ہے، یہ بل عورتوں کو قانونی اور سماجی پیچیدگیوں میں الجھا تا ہے اور اس بل میں زیادہ زور شوہروں کو جیل بھیج نے پر ہے نہ کہ عورتوں کی مدد کرنےپر ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ماہرینِ قانون اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے اس بل کی کھل کر مخالفت کی ہے اور ہم مسلم عورتوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ کی تعداد میں گھروں سے نکل کر اس بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس موقع پر ہم کھلے لفظوں میں حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہ کرے۔ پروفیسر مونسہ بشری نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم چار عورتوں کو پارلیمنٹ کی گیلری میں برقعہ پہنا کر دکھاتے ہو، اور یہ پیغام دیناچاہتے ہیں کہ مسلم خواتین طلاق ثلاثہ بل کی حمایت میں ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلم خواتین اس بل کے خلاف ہیں۔ اس سچائی کا گواہ آج کا آزاد میدان بھی ہے جو خواتین اسلام سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے التماس کی کہ جہاں آپ چار خواتین کو بار بار دکھاتے ہیں کہ مسلمان عورت شریعت سے بیزار ہیں وہ اس مجمع کو بھی اپنے ٹی وی اسکرین پر دکھائیں اور اس سچائی کو بھی لوگوں کے سامنے لائیں تبھی ہمیں یقین آئے گا کہ ہندوستان کا میڈیا آزاد ہے۔ جو لوگ شریعت میں مداخلت اور یونیفارم سول کوڈ کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کی دستور ساز اسمبلی میں بابا صاحب امبیڈکر نے کہا تھا وہ حکومت پاگل ہوگی جو اس ملک میں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے سنگھ سر چالک گرو گوالکر نے بھی کہا تھا کہ یکجہتی کے لیے ہمیں سول کوڈ کی نہیں مذہبی رواداری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مسلم خواتین کو انصاف دلانے کی بات کرتے ہیں ان کی باتیں سن کر مجھے نجیب کی ماں یاد آجاتی ہے ،احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری یاد آجاتی ہے ، عشرت جہاں یاد آجاتی ہے، یہ بات کان کھول کر سن لی جائے کہ طلاق مسلم عورتوں کا مسئلہ نہیں ہے، اگر حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی ہی ہمدردی ہے تو انہیں غربت سے بچائیں۔ ایجوکیشن فری کردیں، بے روزگاری کو دور کردیں، مسلم مردوں کو سرکاری نوکریاں دیں ، ہماری جان ومال عزت وآبرو کی حفاظت کریں ، ملک سے ماب لنچنگ کی لعنت کو ختم کریں ، ہمیں ہماری شریعت پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دو، کیوں کہ ہم مسلمان بن کر جینا اور مسلمان بن کر مرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خواتین اسلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری تحفظ شریعت کی یہ جنگ طویل بھی ہوسکتی ہے اس لیے ہمیں استقامت کی ضرورت ہے۔ اہل تشیع کی نمائندگی فرحت جعفری (اہل بیت فیڈریشن لیڈس ونگ سکریٹری)کررہی تھیں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام میں جتنی عزت خواتین کو دی گئی ہے وہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں۔ جتنا اسلام میں عورتوں کو تحفظ فراہم کیاگیا ہے اتنا کسی بھی مذہب میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ بستے ہیں، سبھی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی آئین نے فراہم کی ہے اسلیے ہمارا یہ ملک گلدستہ ہے اسے ایسے ہی رہنے دیں اسے نہ توڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسلم خواتین کی جھوٹی ہمدردی نہ دکھائیں اگر آپ کو واقعی ہمدردی ہے تو ان غیر مسلم خواتین کی فکر کریں جو بنا طلاق کے چھوڑی گئی ہیں جن کا کوئی محافظ نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کی ممبر محترمہ سمیہ نعمانی نے اپنے پُر مغز خطاب میں یہ واضح کیا کہ عورتوں کو مسلم سماج میں بلند و بالا اورعزت کا مقام حاصل ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ زندگی کے ہر مقام اور ہر شعبے میں عورتوں کے ساتھ رحمدلی کا برتا ؤ کیا جائے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ عورتوں کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر شکل میں احترام کا درجہ حاصل ہے۔ سمیہ نعمانی نے ’’حکومت کو مسلم خواتین بل ۲۰۱۷ واپس لیناچاہئے، مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتی، مسلم خواتین یکساں سول کورڈ کو متعارف کرانے کی یعنی سول کوڈ کو لانے کی حکومت کی تمام اقدامات تمام کوششوں کو مستردکرتی ہیں، ریجکٹ کرتی ہیں، ننانوی فیصد سے زائد مسلم خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت کرتی ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت پر لیڈر شپ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتی ہیں‘‘ الفاظ پر مشتمل قرار داد پیش کی ریلی میں شریک لاکھوں خواتین اسلام نے ہاتھ بلند کرکے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ۔ ایڈوکیٹ منورہ الوارے نے مراٹھی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین دل و جان سے شرعی قوانین کی حمایت میں ہیں اور وہ اچھی طر ح جانتی ہیں کہ اُن کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے۔ اس لئے مسلم عورتوں کو کسی بھی حال میں دھوکہ نہیں دیا جانا چاہئے۔ جماعتِ اسلامی کی محترمہ عرشیہ شکیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس قانونِ شریعت کی شکل میں انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات کے لئےایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے اور مسلمان اس سے خوش بھی ہیں۔ اہل سنت والجماعت کی محترمہ آئین رضا نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اتحادِ ملت پر زور دیا اور بتلایا کہ یہ بل تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لئے قابلِ فکر اور پریشان کن ہے اسلئے اگر ہم متحدہ طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے اس پلیٹ فارم سے کوشش کر یں گے تو انشا ء اللہ یقینی طور پر مثبت نتائج آئینگے۔ ویمن ونگ ممبئی کی کو آرڈینیٹر محترمہ عشرت شہاب الدین شیخ نے سامعین کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کی کار کردگی اور عزائم سے واقف کرایا جبکہ محترمہ ذکیہ محمد فرید شیخ ،کو آرڈینیٹر ویمن ونگ نے بورڈ کے سماجی اصلاح ، دار القضا اور ویمن ہیلپ لائن جیسے کا موں کو اُجا گر کیا۔اس تاریخی اور پر ہجوم عظیم الشان ریلی کے اختتام پر مسلم پرسنل لا بورڈ خواتین کی ذمہ داران نے اپنے مطالبوں پر مشتمل ایک میمورنڈم مہاراشٹرا کے گورنر صاحب کو جا کر پیش کیا۔ ا س ریلی کی نظامت پروفیسر شبانہ کررہی تھیں۔ اس ریلی سے سلمی آپا، فرح جعفری، عرشیہ شکیل وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ مولانا محمود دریابادی رکن بورڈ نے پولس افسران، سیاسی لیڈران، اور ممبئی کی تمام مسلم تنظیموں کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے تعاون سے یہ تاریخ ساز ریلی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ مولانا سجاد نعمانی (ترجمان بورڈ ) کی رقت آمیز دعا پر اس ریلی کا اختتام ہوا۔ اس ریلی میںڈاکٹر ظہیر قاضی (رکن بورڈ) ، مولانا اعجاز کشمیری، ابو عاصم اعظمی (ایم ایل اے سماج وادی) ، ایڈوکیٹ وارث پٹھان(ایم ایل اے ایم آئی ایم) ، سفیان ونو (کارپوریٹر کانگریس) ، نظام الدین راعین، شاکر پٹنی، سلیم الوارے، فرید شیخ (رکن بورڈ)، ڈاکٹر عظیم الدین، مولانا برہان الدین قاسمی (ڈائریکٹر مرکز المعارف)، مولانا مدثر قاسمی (استاذ مرکزالمعارف)،مولانا معاذ مدثر قاسمی (استاذ مرکز المعارف)، قاضی اشفاق (جامع مسجد بمبئی)، قاضی فیاض (قاضی مسلم پرسنل لا ناگپاڑہ)، مولانا مقصود علی نوری، مولانا خلیل الرحمن نوری، مولانا صغیر نظامی،صفدر کرمانی، مولانا خان افسر قاسمی ودیگر اہم سیاسی وسماجی شخصیات موجود تھیں۔ اس ریلی کو جماعت اسلامی ، جماعت اہل حدیث، رضا اکیڈمی، جمعیۃ علمائے ہند (الف۔میم)، سنی جمعیۃ علما ہند وغیرہ کی تائیدوحمایت حاصل تھی۔بوہرہ کمیونٹی کے افراد جگہ جگہ ریلی میں شریک ہونے والی خواتین کو پانی فراہم کررہے تھے۔ شیعہ کمیونٹی کے والنٹیئرس بھی جگہ جگہ خواتین کی رہنمائی کررہے تھے۔ اس ریلی کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر ظہیر قاضی کے انجمن اسلام کی طالبات اور خواتین پرنسپلس نے اہم رول ادا کیا۔

Comments

Popular posts from this blog